کیا یہ کھلا تضاد نہیں تحریر اے خان

aqeel 2

فیس بک پر دوستوں کے ساتھ بیٹھا گپ شپ کررہا تھااور موضوع تھاچل رہا تھا کہ کونسا ملک دنیا میں سب سے اچھا ہے ۔ہم پاکستان کا دیگر ممالک سے مقابلہ کررہے تھے۔ کافی دلچسپ گفتگو کے بعدہم اس نتائج پر پہنچے کہ پاکستان ہی دنیاکا سب سے اچھاملک ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جہاں اللہ کی طرف سے ہرنعمت پائی جاتی ہے۔ہر قسم کی زمین اس ملک میں موجود ہے۔ ( میدان سے لیکر پہاڑی زمین )ہرطرح کا موسم ہمارے ملک میں ہونا اللہ کا ہمارے لیے ایک حسین تحفہ ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال ہونا بھی ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔پاکستان دنیا کا سب سے حسین ملک ہے جس میں اللہ کی عطا کردہ ہر نعمت موجودہے۔گفتگو کے دوران ایک دوست نے بہت گہری بات کی کہ ہمارے ملک میں سب کچھ ہونے کے باوجود غربت کا معیار کافی نیچے ہے۔ امیر امیر تر ہورہا ہے اور غریب غریب تر۔
میں نے جواب میں کہا کہ بھیا آپ نے ٹھیک کہا ۔ ہمارے ملک میں تقریباً ہر روز غربت کی ہی وجہ سے کہیں نا کہیں خودکشی ہوتی ہے۔ کہیں غربت سے تنگ آکر بچوں کا گلہ دبایا جا رہا ہے تو کہیں پٹری پر سر رکھا جارہا ہے۔ کہیں اونچی عمارتوں سے چھلانگ لگائی جارہی ہے تو کوئی زہرکی گولی کھا ئی جارہی ہیں۔ ناانصافی ، معاشی پالیسیاں اور صنعت کے رکے ہوئے پہیے نے نجانے کتنے چولہے ٹھنڈے کردئیے ہیں جس کی وجہ سے غرباء کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جب مزدوروں بھائی سڑکوں اور فیکٹریوں کے گیٹ پردن بھر کھڑے ہوکر خالی ہاتھ مایوس گھر لوٹتے ہیں تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہے؟ انسان ہر چیز برداشت کرلیتا ہے مگر اپنے بچوں کی بھوک برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی بھی کما کر نہ دے سکیں وہ زندہ لاش بن جاتے ہیں اورزندگی کی تلخیوں سے مقابلہ نہیں کرسکتے اورغربت سے تھک ہار کر اپنی جان کی بازی لگادیتے ہیں۔
ابھی اسی موضوع پر بات ہورہی تھی کہ ایک دوست نے کہا کہ یارکیا یہ سراسر ناانصافی نہیں کہ اگر مزدور کی تنخواہ میں اضافہ کرنا ہوتو بڑی سوچ و بچار کے دس سے پندرہ فیصد اضافہ کیا جاتا ہے اور جب اپنی باری آئے تو سوفیصد اضافہ؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟جب یہ سنا تو میں سوچنے لگا کہ بات تو دل کولگتی مگر ہم کیا کرسکتے ہیں؟ اس نے کہا کہ آپ کچھ نہیں کرسکتے مگر اپنا فرض تو ادا کرسکتے ہیں۔کچھ نہیں توایک کالم اس پر لکھ ڈالیں۔شاید آپ کے قلم کی طاقت سے آنے والے بجٹ میں ہماری بھی سنی جائے اور ہماری تنخواہوں میں بھی کوئی اچھا سا اضافہ ہوجائے ۔اس طرح بہت سے لوگ آپ کو دعائیں دیں گے ۔سو میں نے قلم اٹھائی اور اس موضوع پر لکھنا شروع کردیا۔
پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ۔ملک بھرکی عوام کی طرح پنجاب کی عوام بھی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے لیکن حال ہی میں پنجاب اسمبلی نے اپنے ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں سو فیصد اضافے کا بل آسانی سے منظور کرلیا۔غورطلب بات یہ ہے کہ اس بل کو متفقہ طور پر منظور کیا گیامگر کسی سیاسی جماعت کے ممبر کا ضمیر بھی نہیں جاگا ۔کسی نے بھی اس بل کی مخالفت نہیں کی۔ پنجاب اسمبلی کے ہر ممبر کی تنخواہ 42 ہزار سے بڑھا کر 83 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے
بل کے تحت رکن اسمبلی کا روزانہ الاؤنس ایک ہزار روپیہ کردیا گیا ہے کنوینس الاؤنس400سے بڑھا کر 600 روپے ،پسمانداری 5000 بڑھا کر10000 روپے ،ٹریولنگ الاؤنس 500 روپے سے بڑھا کر1500 روپے فی کلو میٹر، ہاؤس رینٹ10000 سے بڑھا کر19000 ، یوٹیلٹی الاؤنس 3000 سے بڑھا کر 6000 ،ٹیلی فون الاؤنس 5000 سے بڑھا کر10000 روپے کردیا گیا ہے ۔سونے پے سہاگہ اور دیکھیں کہ اس بل کا اعلان جولائی 2015 سے کیا گیا ہے۔ گویا ارکان کو گزشتہ سات ماہ کے واجبات بھی ملیں گے۔ تحریک انصاف جو تبدیلی اور انقلاب کی بات کرتی ہے اس کے ارکان نے بھی حکومتی بل کی حمایت کی۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں ٹراسپورٹ کرائے کم ہوئے ہیں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں نیچے آئی ہیں لیکن قوم کا درد رکھنے کے دعویداروں نے اپنے ٹریولنگ الاؤنس میں تین گنا اضافہ کیا ہے ۔
کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔ ویسے ہم اسلام کا درس دیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کی مثالیں ہم سب کے سامنے ہیں انہوں نے کس طرح حکمرانی کی؟ایک طرف ہمارے حکمران ہیں جو صرف اپنافائدہ سوچ رہے ہیں اگر سوچنا ہے تو پھر حضرت عمرؓ کی طرح سوچو جنہوں نے کبھی دوسالن نہیں کھائے کیونکہ انہوں نے اپنے آقائے دوجہاں کا ڈرا تھا۔
ویسے بھی ہم کون ہوتے ہیں سرکارکے کام مداخلت کرنے والے۔ یہ کام تو انہی قانون بنانے والوں کا ہے کہ وہ اپنی رعایا کا نفع نقصان خود سمجھیں۔حکومت کوچاہیے کہ وہ سرکاری ملازمین اور مزدوروں کی تنخواہوں میں آٹے میں نمک کے برابر اضافہ کرنے کی بجائے اپنی طرح ان کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔ جولوگ پہلے ہی امیر ہوتے ہیں ان کو مزید امیر تر کیا جارہا ہے اور جو لوگ دووقت کی روٹی کے لیے دھکے کھارہے ہیں وہ غرب کی چکی میں پیس رہے ہیں۔ایسے لوگوں کوزیادہ سے زیادہ سہولتیں دی جانی چاہئیں تاکہ غریب کے گھر سے غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اس طرح کے انقلابی اقدام سے ملک میں جرائم اور خودکشیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔