چائلڈ لیبر ۔۔۔معاشرتی برائی تحریر :۔ شفقت اللہ

logo final

جو بھی ملتا سب صبر کی تلقین کرتے لیکن اس بوڑھے باپ کی آنکھوں سے آنسو اور بوڑھی ماں کے مسلسل رونے کے بعد بندھنے والی ہچکیاں بند نہیں ہو رہیں تھیں ۔جواں سالہ بیٹے کی اچانک موت نے جیسے دونوں کیلئے قیامت کی گھڑی برپاکر دی تھی اور حشر کا سا سماں تھا ۔زندگی اتنی چھوٹی ہو گی کبھی کسی نے نہیں سوچا ہو گا اور موت کا درد کیا ہوتا ہے آج سب لوگ اچھی طرح سمجھ گئے تھے ۔مرنے والے لڑکے نے ابھی زندگی کی کئی بہاریں دیکھنی تھیں اسکی بہنوں کی چیخ و پکار میں اس بات کا شکوہ تھا کہ اگر زندگی اتنی ہی چھوٹی دینی تھی تو ہمیں کیوں پیدا کیا تھا ہماری عمریں بھی ہمارے بھائی کو لگا دیتے ! بھائی سے اسکا دوست ، ہم راز اور رشتہ داروں سے انکا چہیتا دور اس جگہ چلا گیا تھا جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آتا ۔بائیس سالہ اس مزدور نو جوان کیلئے ہر آنکھ اشک بار اور ہر زباں شکوہ بیاں تھی کہ اے اللہ ! اتنا بھی ترس نہ کھایا اس نو جوان پر کہ آخری بار اپنے عزیزوں کے ساتھ کو ئی لمحہ گزار لیتا ؟اس لڑکے کی موت ایک حادثہ میں ہوئی تھی یہ کم سن لڑکا اپنی 6 بہنوں ایک کم سن بھائی اور ماں باپ کا اکلوتا سہارا تھا اور مزدوری کی خاطر چنگ چی رکشہ چلاتا تھا ۔حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ سڑک کے کنارے رک کر پیچھے کی جانب سڑک کو عبور کیلئے دیکھ رہا تھا کہ اچانک تیز رفتار موٹر سائیکل پر سواردو لوگ اس کے ساتھ ٹکرا گئے جسکی وجہ سے اس لڑکے کے سر میں گہری چوٹ آئی چھ دن ہسپتال میں گزارنے کے بعد وہ زندگی کی بازی بے ہوشی کی حالت میں ہی ہار گیا ۔
بات صرف ایک قصے کی نہیں ہے یہاں بات ہے پوری انسانیت کی کہ کس طرح اس جیسے ہزاروں کم سن بچے کہیں کوئی تعمیراتی کام کرتے ہوئے اونچائی سے گر کر اللہ کو پیارے ہو جاتا ہے، تو کوئی رکشہ چلاتے ہوئے ،کوئی کسی فیکٹری میں کام کرتے ہوئے اچانک آگ لگنے سے جل گیا تو کوئی بھٹے پر اینٹیں پکاتے ہوئے ،کئی بچے اپنی زندگی کی بازی نادانیوں اور انہونیوں کی وجہ سے ہار بیٹھتے ہیں ۔روز بہ روز ان واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گاڑیوں کا سائرن بجنا اور ہر وقت سڑکوں پر لگا ہجوم ہمیں بتاتا ہے کہ روز کتنے حادثات ہوتے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ حادثات کی تعداد کم عمر بچوں کی ہوتی ہے ۔حکومت پنجاب نے بھی چائلڈ لیبر کے خاتمہ کیلئے بہت سے اعلانات کئے ہیں اور آئے روز اخبارات میں انہیں پڑھا بھی جا تا ہے ۔لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلانات صرف کاغذی ہیں یا ان کا واقعی کوئی اثر ہو رہا ہے ؟ اگر چائلڈ لیبر کو ختم کرکے انہیں سکول میں بھرتی کروا بھی دیا گیا تو حکومت تو صرف انکی پڑھائی تک کا خرچ ہی برداشت کر سکتی ہے اسکے علاوہ زندہ رہنے کیلئے جن چیزوں کی ضرورت ہو گی ،کھانا ،کپڑے ،ادویات اور سواری کا خرچ کون دے گا ؟وہ بچے جن افراد کی کفالت کر رہے ہیں ان کیلئے گورنمنٹ کیا کرے گی؟سوال یہ بھی ہے کہ آخر ان بچوں کو مزدوری کیوں کرنا پڑتی ہے؟صرف اس وجہ سے کہ ایک پانچ سو روپے روزانہ کمانے والا مزدور آدمی دس بچے پیدا کر لیتا ہے اور پھر روز بہ روز بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا جب نہیں کر سکتا تو اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو کام پہ لگا دیتا ہے اور کہیں کسی بچے کو اللہ تعالیٰ یتیم بنا دیتا ہے اور اسکے بعد زندہ رہنے کیلئے اسے مزدوری کرنا پڑتی ہے۔جس غریب شخص کے پاس ان بچوں کو کھلانے کے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں تو وہ اسکو تعلیم کیسے دلوائے گا۔
نت نئے وعدے ، نئی سڑکیں اور نئے پراجیکٹس !یوں لگتا ہے جیسے پاکستان ایک جھٹکے میں سب کو پیچھے چھوڑ جائے گا ،ترقی کی ایسی منازل طے کرے گا کہ جسے دوسرے ممالک اپنا آئیڈل ماننے لگ جائیں گے ایسے خواب دکھائے جا رہے ہیں کہ جو شرمندہ تعبیر ہیں ۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج پاکستان کے ساتھ حکمران وہی کچھ کر رہے ہیں جو مغل بادشاہوں نے برصغیر پاک و ہند کے ساتھ کیا تھا ۔ جس دور میں انسانی عشق کی خاطر ایسا محل تعمیر کروایا گیا جو ایک عجوبہ ہے لیکن اس کا اگلی نسلوں کو کوئی فائدہ نہیں ۔عین انہیں دنوں میں برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی قائم ہوئی۔ہم پاکستان میں بجلی کی کمی کو پورا کریں گے اس اعلان کے ساتھ ہی ایک نئے ٹیکس کا اضافہ ہو جاتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ پاکستان نے قرضہ لینے کیلئے آئی ایم ایف کو سمری ارسال کر دی ہے۔اعلان ہوتا ہے کہ میٹرو ٹرین چلائی جائے گی اور ساتھ ہی اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔نوجوانوں کو روزگار اور محنت کے مواقع انکی تعلیم کے معیار کے مطابق فراہم کرنے کی بجائے انہیں بھیگ دی جاتی ہے کہ ہم سے قرضے میں ٹیکسی لے لو اور ٹیکسی ڈرائیور بن جاؤ ۔گریجوایٹ اور ماسٹر نوجوان درخواستیں جمع کروا کر لائن میں لگے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں یار نوکری تو ملنی نہیں ہے اور کاروبار کے پیسے نہیں ہیں اور نہیں تو ڈرائیور ہی بن جاتے ہیں ۔انٹر اور بیچلر کرنے والے بچوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے اور گیس کو بند کر دیالیکن یہاں پر ایک سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کہ کیا طالب علم کے بہتر مستقبل اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کیلئے کمپیوٹرز کی ضرورت ہے یا بہترروزگار کی؟یا ان کے والدین جن کو بچو کی پڑھائی کا خرچ اٹھانے کیلئے بہت دشواریاں پیش آتی ہیں انہیں بجلی یا گیس مہیا کرکے ان کے کاروبار میں درپیش تکالیف دور کی جائیں؟ ہاں اب کوئی یہ بتائے کہ جو شخص اس قابل ہے کہ اپنے بچوں کی اتنی مہنگی پڑھائی جو پاکستان میں دی جاتی ہے دلوا سکتا ہے وہ کیا انہیں کمپیوٹر نہیں خرید کر کے دے سکتا ؟ اگر سوچا جائے تو اس وقت پاکستان کو میٹرو اور بڑے بڑے پلوں کی ضرورت کی بجائے بنیادی ضروریات چاہیءں ، انہیں تعلیم ،صحت ،صاف پانی ،اچھی غذا جو ہر طبقے کے شخص کی پہنچ میں ہو ،مطلوب ہے ۔اگر یہ تمام چیزیں مہیا کر دی جائیں تو کسی کم سن مزدور یا ڈرائیور کو آپ مزدوری کرتے نہیں بلکہ تعلیم حاصل کرتے دیکھیں گے اور کہیں بھی والدین کی ہچکیاں اور سسکیاں سنائی نہیں دیں گی۔ہمیشہ جس چیز کے استعمال کرنے کا شعور نہ ہو اس کا نامناسب اور غلط استعمال ہوتا ہے جو معاشرے کو ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف گامزن کرتا ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک اور اسکی عوام کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اسکے حکمرانوں سمیت سب لوگوں کو ہدایت دے تاکہ ہمارا ملک عدم استحکام اور تباہی کی راہیں عبور کرنے کی بجائے استحکام اور ترقی کی جانب گامزن ہو۔آمین
نوٹ:۔ یہ تحریر میری ملکیت ہے ۔کوئی بھی شخص اس کو چرانے کی کوشش کرے یا اس میں ہیرا پھیری کرنے کی کوشش کرے تو میں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں ۔